XXII · مدرسہ الحدائق · Ghutne ka dard

گھٹنے کا درد اور آرتھرائٹس

گھٹنے کے درد کو صرف عمر یا ایکسرے کی رپورٹ نہ سمجھیں—حرکت، طاقت اور روزمرہ کام بھی اہم ہیں۔

گھٹنے کے درد کی عام وجوہات

گھٹنے کا درد اوسٹیوآرتھرائٹس، مینیسکس، پٹھوں اور ٹینڈن، چوٹ، سوجن یا بعض اوقات کولہے اور کمر سے آنے والے درد سے متعلق ہو سکتا ہے۔ آرتھرائٹس میں سیڑھیاں، کرسی سے اٹھنا، زیادہ چلنا یا دیر تک کھڑے رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایکسرے میں تبدیلی اور درد کی شدت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں؛ اس لیے صرف رپورٹ نہیں بلکہ مریض کی طاقت، حرکت، سوجن اور روزمرہ ضرورت دیکھی جاتی ہے۔

کب فوری معائنہ ضروری ہے؟

بڑے حادثے کے بعد وزن نہ ڈال سکنا، گھٹنے کا واضح ٹیڑھا ہونا، بہت گرم اور سوجا ہوا جوڑ، بخار، اچانک لاک ہونا، یا پنڈلی کی سوجن اور سانس کی تکلیف فوری طبی توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔

ورزش، وزن اور علاج

زیادہ تر آرتھرائٹس میں طاقت اور حرکت کی مناسب ورزش بنیادی علاج کا حصہ ہے۔ گھٹنے کے سامنے اور کولہے کے پٹھوں کی طاقت، جسمانی وزن کا انتظام، سرگرمی کی منصوبہ بندی، مناسب جوتا اور نیند مجموعی نتائج پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ورزش کی مقدار درد اور طاقت کے مطابق آہستہ بڑھائی جاتی ہے؛ مکمل آرام عموماً جوڑ کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

ادویات، بریس، چھڑی، فزیوتھراپی، سٹیرائڈ، ہائیلورونک ایسڈ یا PRP منتخب مریضوں میں زیر غور آ سکتے ہیں۔ PRP ہر مریض کے لیے مناسب نہیں اور اسے کارٹلیج دوبارہ بنانے یا مستقل علاج کی ضمانت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ فیصلہ آرتھرائٹس کی شدت، علامات، صحت، ادویات اور مریض کے مقصد کے مطابق کیا جاتا ہے۔

ماہر سے کب ملیں؟

اگر درد روزمرہ چلنے، نماز، سیڑھیوں یا نیند کو متاثر کرے، بار بار سوجن ہو، گھٹنا جواب دیتا محسوس ہو، یا علاج کے باوجود واضح منصوبہ نہ ہو تو معائنہ مناسب ہے۔ سابقہ ایکسرے یا ایم آر آئی اور انجیکشن کی تفصیل ساتھ لائیں۔

صرف ایکسرے نہیں، روزمرہ کام دیکھیں

علاج کی پیش رفت چلنے کے فاصلے، کرسی سے اٹھنے، سیڑھیوں، سوجن، طاقت اور نیند کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہے۔ ایکسرے میں آرتھرائٹس برقرار رہ سکتا ہے جبکہ مریض کی طاقت اور کام بہتر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے بحالی کا مقصد رپورٹ کو “نارمل” بنانا نہیں بلکہ زندگی میں قابلِ پیمائش بہتری لانا ہے۔

اگر گھٹنا بار بار سوجے، اچانک لاک ہو، وزن برداشت نہ کرے یا ورزش کے باوجود مسلسل بگڑتا جائے تو تشخیص اور علاج کا دوبارہ جائزہ ضروری ہے۔

کن باتوں کا ریکارڈ مفید ہے؟

لکھیں کہ درد کب شروع ہوا، کہاں محسوس ہوتا ہے، سوجن یا لاک ہونے کی شکایت ہے یا نہیں، اور چلنے، سیڑھیوں، نماز یا کرسی سے اٹھنے پر کیا اثر پڑتا ہے۔ سابقہ ایکسرے، ادویات، انجیکشن اور ورزش کا ریکارڈ ساتھ لائیں۔ اس سے یہ طے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ مسئلہ صرف آرتھرائٹس سے متعلق ہے یا کسی دوسری وجہ کا جائزہ بھی چاہیے۔

ورزش میں بتدریج اضافہ اور اگلے دن کی علامات کا مشاہدہ عموماً ایک ہی دن بہت زیادہ محنت کرنے سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔ مناسب مقدار فرد کے معائنے اور صحت کے مطابق طے ہونی چاہیے۔

CALL HOSPITAL BOOK WHATSAPP