فروزن شولڈر اور روٹیٹر کف میں فرق
فروزن شولڈر میں کندھے کی اپنی حرکت اور کسی دوسرے شخص کے ذریعے حرکت دونوں واضح طور پر کم ہو جاتی ہیں۔ روٹیٹر کف سے متعلق درد میں ہاتھ اوپر لے جانے، وزن اٹھانے یا درد والے کندھے پر سونے میں مشکل ہو سکتی ہے، مگر حرکت کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ گردن کے اعصاب کی خرابی بھی کندھے اور بازو میں درد یا کمزوری پیدا کر سکتی ہے۔
تشخیص کے لیے درد کی شروعات، حادثہ، رات کی علامات، شوگر یا تھائیرائڈ کی تاریخ، حرکت اور طاقت دیکھی جاتی ہے۔ ایکسرے، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی صرف اس وقت منتخب کیا جاتا ہے جب نتیجہ علاج کو بدل سکتا ہو۔
خطرے کی علامات
علاج اور بحالی
فروزن شولڈر کا علاج مرحلے اور درد کے مطابق ہونا چاہیے۔ شدید درد میں بہت زور سے کھینچنا علامات بڑھا سکتا ہے، جبکہ مکمل عدم حرکت اکڑاؤ کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ مناسب حد میں حرکت، روزمرہ استعمال، نیند کی پوزیشن اور آہستہ آہستہ طاقت بڑھانا اہم ہے۔ منتخب مریضوں میں الٹراساؤنڈ گائیڈڈ انجیکشن درد کم کر کے بحالی میں حصہ لینے میں مدد دے سکتا ہے، مگر نتیجہ ہر شخص میں مختلف ہوتا ہے۔
روٹیٹر کف کے مسئلے میں بوجھ کو عارضی طور پر بدلنا اور کندھے و شانے کے پٹھوں کی طاقت بڑھانا اکثر مرکزی حصہ ہے۔ اچانک چوٹ کے بعد مستقل کمزوری یا مشتبہ بڑے ٹئیر میں سرجن کی رائے درکار ہو سکتی ہے۔
کتنا وقت لگتا ہے؟
فروزن شولڈر اور پرانے ٹینڈن کے مسائل میں بہتری کئی مہینوں میں آ سکتی ہے۔ مقصد صرف درد کم کرنا نہیں بلکہ کپڑے پہننے، بال بنانے، نماز، کام اور نیند جیسی سرگرمیوں کو بہتر کرنا ہے۔
حرکت محفوظ رکھیں، زور زبردستی نہ کریں
کندھے کو مکمل طور پر نہ ہلانا اکڑاؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ شدید درد کے باوجود بار بار زور لگانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مناسب حد میں روزانہ حرکت، ہاتھ کے استعمال میں چھوٹی تبدیلیاں اور نیند کی پوزیشن مدد دے سکتی ہے۔ ورزش کا صحیح انتخاب اس بات پر منحصر ہے کہ مسئلہ فروزن شولڈر، روٹیٹر کف، آرتھرائٹس یا اعصاب سے متعلق ہے۔
بہتری کو کپڑے پہننے، بال بنانے، ہاتھ اوپر لے جانے، وزن اٹھانے اور رات کی نیند کے ذریعے ناپیں۔ اگر حرکت مسلسل کم ہو رہی ہو تو جلد معائنہ بہتر ہے۔